ایک اظہار استعمال کیا جاتا ہے۔“خدا کا کلام”اسلام اور عیسائیت دونوں میں اس کے معنی اور مفہوم میں گہرا فرق ہے۔
فرق کو سمجھنے کے لیے، ہمیں ہر مذہب میں اس اصطلاح کے لسانی، فلسفیانہ اور مذہبی معنی پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
پہلا: اسلام میں لفظ “خدا” کا مفہوم
اسلام میں، اصطلاح “اس کا لفظ” دیا گیا ہےعیسیٰ ابن مریمقرآنی متن پر مبنی۔
روایتی اسلامی فہم اس کی وضاحت اس طرح کرتا ہے:
- خدا اپنے حکم سے تخلیق کرتا ہے: “ہو جا اور وہ ہو گیا۔”
- یسوع کو ایک انسانی باپ کے بغیر براہ راست الہی کلام کے ذریعے تخلیق کیا گیا تھا۔
- اسی لیے اسے “خدا کا کلام” کہا جاتا ہے، یعنی تخلیق کے کلام کا نتیجہ۔
اجازت:
- لفظ یہاں ہے۔ایک الہی، تخلیقی حکم.
- یہ اپنے طور پر ایک آزاد خصوصیت یا ہستی نہیں ہے۔
اسلامی عقیدے میں، خدا کا کلام اس کی صفات میں سے ایک ہے، لیکن اس کا مطلب الٰہی جوہر کی کثرت نہیں ہے۔
دوسرا: عیسائیت میں “خدا کے کلام” کا مفہوم
عیسائیت میں یہ تصور واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے۔یوحنا کی انجیل:
“شروع میں کلام تھا، اور کلام خدا کے ساتھ تھا، اور کلام خدا تھا۔”
یہاں یہ لفظ کسی تخلیق شدہ چیز کی طرف اشارہ نہیں کرتا ہے، بلکہ یہ ہے:
- خدا کے جوہر کا ابدی اظہار
- الہی بولنے والا دماغ
- خدا کی مکمل وحی
عیسائیوں کا ماننا ہے کہ یہ “کلام” ایک انسان میں انسان بن گیا۔یسوع مسیح.
اجازت:
- لفظ تخلیق نہیں ہوتا۔
- بلکہ ابدی ہے۔
- یہ خدا کی فطرت میں شریک ہے۔
تیسرا: گہرا فلسفیانہ فرق
اسلام میں
- خدا ایک ہے، سادہ اور غیر پیچیدہ۔
- اس کی خصوصیات اکیلے کھڑے ہیں، لیکن ان کا مطلب اندرونی ذاتی تفریق نہیں ہے۔
- لفظ خدا کا فعل ہے۔
عیسائیت میں
- خدا جوہر میں ایک ہے۔
- لیکن اس کے اندر باپ اور کلام (بیٹے) کے درمیان ایک ابدی رشتہ ہے۔
- لفظ کوئی گزرنے والا عمل نہیں ہے بلکہ خدا کے جوہر کا مستقل اظہار ہے۔
فرق کا خلاصہ اس طرح کیا جا سکتا ہے:
| سوال | اسلام | عیسائیت |
|---|---|---|
| کیا لفظ تخلیق ہوا ہے؟ | ہاں (یعنی تخلیق کا اثر) | نہیں |
| کیا لفظ ابدی ہے؟ | خدا کے الفاظ ابدی ہیں، لیکن یسوع ایک مخلوق ہے۔ | کلام ابدی اور مجسم ہے۔ |
| کیا لفظ ایک شخص ہے؟ | نہیں | جی ہاں |
چوتھا: فلسفیانہ جہت (لوگو)
یونانی فلسفہ میں، اصطلاح “لوگوس” کائنات کے منظم ذہن کو کہتے ہیں۔
جب جان نے یہ اصطلاح استعمال کی تو اس نے یہ خیال پیش کیا کہ:
الہی دماغ جس سے کائنات کی تخلیق ہوئی وہ انسان بن گیا۔
یہ ایک جرات مندانہ تجویز ہے: نہ صرف خُدا بولتا ہے، بلکہ اُس کا “کلام” ایک شخص کے طور پر تاریخ میں داخل ہوتا ہے۔
پانچواں: توحید کا سوال
ایک مسلمان سوچ سکتا ہے: اگر کلام ابدی اور فرد ہے تو کیا اس کا مطلب تکثیریت نہیں ہے؟
عیسائی جواب دیتا ہے:
- متعدد معبود نہیں۔
- بلکہ، اکائی کے اندر تفریق
- جوہر میں اتحاد، تعلق میں تفریق
یہاں “اندرونی تفریق کے بغیر اتحاد” اور “ابدی تعلق کے ساتھ اتحاد” کے درمیان فرق کا نچوڑ ہے۔
چھٹا: وجودی جہت
اسلام میں:
- خدا اپنی مرضی وحی اور انبیاء کے ذریعے ظاہر کرتا ہے۔
عیسائیت میں:
- خدا اپنے آپ کو ایک زندہ، جاننے والے شخص میں ظاہر کرتا ہے۔
فرق صرف لسانی نہیں بلکہ وجودی ہے:
کیا خدا کی وحی صرف ایک کتاب ہے؟
یا ایک شخص اور ایک کتاب؟
گہرا تقابلی خلاصہ
- اسلام میں: لفظ تخلیقی حکم ہے۔
- عیسائیت میں: کلام ایک الہی، ظاہر کرنے والی ہستی ہے۔
- اسلام میں: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایک لفظ سے پیدا کیا گیا۔
- عیسائیت میں: یسوع ایک لفظ ہے جو گوشت سے بنا ہے۔
محقق کے سامنے کھلا سوال باقی ہے:
کیا یہ ہو سکتا ہے کہ خدا نے اپنے آپ کو اکیلے تحریری لفظ میں ظاہر کیا؟ یا اوتار کلام سے بھی؟
